A pro Uthmani Alawi paradox

My wife belongs to school of a pro Uthman Alawi legal expert of commandments. As far as compromise is concerned, I am not very dogmatic but flexible and I do not consider my views binding on anyone only for pleasure of Allah in akhirah. Pashtun Fatimis include descendants of Ismail bin Jafar bin Muhammad bin Ali bin Husayn bin Ali bin Abi Talib, but still many of them are egoless enough to support lovers of Uthman bin Affan so I implicitly love them.

Do they want to exploit the second Umar to dethrone Jafari Islam?

حضرت عثمان کا اسوہ ہابیلی اہل سنت کے لئے اعلی مثال ہے کہ مخالف قتل کرنے کو آئے تو تکیہ بچھا کر ان کا استقبال کرو اور انہیں خارجیت سے توبہ کی دعوت دو اگر سب سنی حضرت عثمان جیسے ہو جائیں تو رافضی اور یزیدی امت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور قرآن کہتا ہے نازک موضوعات پر راسخین سے رجوع کرو اور خاموشی اختیار کرو اختلاف خود ہی ختم ہوجائے گا میں طاہر القادری اور طارق جمیل کی طرف رجوع کرتا ہوں

To Egyptian murtads #Ahmed Sami

To Egyptian murtad #Ahmed Sami

اهل مصر قتلو عثمان و بنى اسحاق


Arab atheists are very discursive not sure what is their most important argument and personality cult. Abdullah Qassemi at least knew what he was talking about. Fajr sleep deprivation can improve mood according to research

الفجر یثبت القلب علی الوسطیة بين الحزن و الجنون كما فى علم النفس

Are you sure you are chosen by God?

In Islam, being chosen by God depends on your personal relationship with problem of evil or suffering.

قال: [إذا أحَبَّ اللهُ عَبداً اِبتَلاهُ، فَإِن صَبَرَ اجتَباهُ ، فَإِن رَضِيَ اصطَفاهُ]

Three stages of being chosen by Allah.

1) Hubb: I am depressed because Allah loves me.

2) Ijtiba: I tolerate being depressed for sake of Allah.

3) Istifa: I am happy that I am depressed for the sake of Allah. May Allah choose us for stage of Istifa.

Urdu guideline about Islamic prayer posture during illness

:::مریض کا پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھنا: شوافع واحناف کا اختلاف اور سورة آل عمران کی ایک آیت کی وضاحت:::

قرآن مجید کی آیت ھے: “الذين يذكرون الله قياما وقعودا وعلى جنوبهم”
حنفیہ کا مذھب ھے کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھو کھڑے نہیں پڑھ سکتے بیٹھ کر پڑھو بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھو
اب لیٹنے کا طریقہ عند الاحناف سیدھا لیٹنا ھے جس میں سر تھوڑا اٹھا کر قبلے کی طرف ہو اور پیر قبلے کی طرف ہو
اور شافعیہ کے ہاں ایک طرف لیٹنے کا ھے یعنی جنوبهم. ظاہری آیت شافعیہ کو سپورٹ کر رہا ھے احناف کے پاس سیدھا لیٹنے کا قوی دلیل کیا ھے شکریہ

الجواب باسم ملهم الصواب:

سب سے پہلے حنفیہ اور شافعیہ کا موقف یہ ہے کہ:

۱: امام ابو حنیفہ کے ہاں اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھنے کی سکت نہ رکھتا ہو، تو وہ لیٹ کر پڑھ لے، خواہ کروٹ کے بل خواہ چت لیٹ کر۔ البتہ چت لیٹ کر پڑھنا بہتر ہے۔

۲: لیکن امام شافعی صاحب – رحمه الله تعالى – کے ہاں وہ کروٹ کے بل لیٹے گا۔ اگر اس کی سکت نہ ہو تو چت لیٹ کر۔

اس کے بعد سورة آل عمران کی آیت کی طرف آتے ہیں:

۱: سورة آل عمران کی یہ آیت بلاشبہ مریض کی نماز میں اصل کی حیثیت رکھتی ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف ہیئتوں سے نماز پڑھی جا سکتی ہے لیکن اس آیت میں سرے سے ترتیب کا تذکرہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ دوسری نصوص یا دلائل سے لی گئی ہے کہ یہاں حرف عطف “و” استعمال ہوا ہے جو ترتیب کے لیے نہیں آتا۔

۲: چناچہ علامہ بیضاوی جو خود شافعی مفسر وعالم ہیں اس کی دو تفسیریں لکھتے ہیں:

—— پہلی تفسیر کے مطابق اس کے معنے ہوئے کہ عقل والے “أولو الألباب” ہرحال میں اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں۔ اس لیے، اس تفسیر کی وضاحت انہوں نے اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – کے اس فرمان سے کی ہے کہ: “جو چاہے کہ جنات کے باغات میں خوب چرے، تو وہ کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کرے”

ان کی عبارت ملاحظہ ہو:

أي يذكرونه دائما على الحالات كلها قائمين وقاعدين ومضطجعين، وعنه عليه الصلاة والسلام «من أحب أن يرتع في رياض الجنة فليكثر ذكر الله»

—— دوسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ اس آیت سے مراد ہی یہ ہو کہ تین ہیئتوں ہی پر نماز ہو سکتی ہے اور اس کے بعد انہوں نے عمران بن حصین – رضي الله تعالى عنه – کی حدیث نقل کی ہے جس میں اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – نے انہیں یہ فرمایا کہ: “کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر سکت نہ ہو، تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی سکت نہ ہو، تو پہلو پر اشارے سے پڑھ لو”

لیکن انہوں نے خود بھی اس تفسیر کو کمزور قرار دیا ہے۔ ان کی عبارت ملاحظ ہو:

وقيل معناه يصلون على الهيئات الثلاث حسب طاقتهم لقوله عليه الصلاة والسلام لعمران بن حصين: «صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب تومئ إيماء»

اور اس تفسیر پر ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر نماز کی تین ہی حالتیں ہیں، یعنی کھڑا ہونا، بیٹھنا اور پہلو پر ہونا، تو اگر کوئی اس پر قادر نہ ہو، تو اس کی نماز درست ہی نہ ہو، لیکن بالاتفاق اگر کوئی اس پر قادر نہ ہو، تو وہ چت لیٹ کر پڑھے گا۔

اور یہی وجہ ہے کہ علامہ شیرازی اور علامہ نووی نے المهذب وشرحه میں، شوافع کے موقف کی بنیاد، اس آیت پررکھی ہی نہیں۔ علامہ شیرازی نے حضرت علی – رضي الله تعالى عنه – کی ایک روایت نقل کی جس میں اس ترتیب کا تذکرہ ہے، اگرچہ علامہ نووی نے اسے خود ہی ضعیف قرار دے دیا ہے۔ (عربی حاشیہ ملاحظہ ہو)

۳: البتہ شوافع کے لیے استدلال عمران بن حصین – رضي الله تعالى عنه – کی حدیث کے ظاہر سے کیا جا سکتا ہے جس میں اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – نے تیسرے درجے میں فرمایا کہ: “على جنب” کہ پہلو پر لیٹ کر پڑھ لو۔

۴: لیکن اس کا جواب علامہ سرخسی وغیرہ نے یہ دیا ہے کہ انہیں دراصل بواسیر کی بیماری تھی اس لیے اللہ کے نبی – صلى الله عليه – نے انہیں پہلو پر لیٹنے کے لیے کہا تھا۔ چناچہ بخاری شریف میں جہاں یہ روایت آئے ہے اس کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ:

“كانت بي بواسير، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم عن الصلاة” (صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدا صلى على جنب)

ترجمہ: مجھے بواسیر کی بیماری تھی، میں نے اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – سے نماز کی بابت استفسار کیا

۵: نیز اگر یہ کہا جائے کہ: “على جنب” یا “على جنوبهم” دراصل محاورہ ہے جس میں ہر طرح سے لیٹنا شامل ہے تو بعید نہیں۔ چناچہ سورة يونس کی مندرجہ ذیل آیت ملاحظہ ہو

وَإِذَا مَسَّ الإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا [سورة يونس: 12]

ترجمہ: جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو ہمیں پکارتا ہے “لیٹے ہوئے”، بیٹھے ہوئے، کھڑے ہوئے

بلاشبہ، یہاں یہ مقصود نہیں کہ صرف پہلو کے بل پکارتا ہے، بلکہ چت لیٹا ہو یا الٹا لیٹا ہوا بھی تب بھی پکارتا ہے اور اس تعبیر سے انسان کی تمام حالتوں کو بیان کرنا مقصود ہے کہ انسان کھڑا ہو گا، بیٹھا ہو گا اور لیٹا ہوا ہو گا۔ اسے علم البلاغة میں تعميم الأحوال کہتے ہیں۔ اوراس سے سورة آل عمران کی زیر بحث آیت کی پہلی تفسیر بھی مزید راجح قرار پاتی ہے کہ وہاں یہی مراد ہے کہ “ہر حال میں اللہ کا ذکرکرتا ہے” اور اس آیت کو مریض کے لیے فقہا (علامہ سرخسی وغیرہ) نے اگر اصل قرار دیا ہے، تو محض اتنی حد تک کہ مختلف ہیئتوں میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ باقی باتوں کا ثبوت دوسرے دلائل سے ہے۔

اس لیے، احناف کے ہاں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ بے بس وبیمار اگر پہلو کر بل لیٹ سکتا ہے، تو اسے اسی ہیئت میں نماز پڑھنی پڑی گی کہ ایسے پابندی پر کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔والله أعلم

=======================

في حاشية الشهاب الخفاجي على تفسير البيضاوي:”(فهو حجة) إن رجع الضمير إلى الحديث فظاهر وان رجع إلى القول به في الآية فكونه لا ينهض
حجة غني عن البيان وبسط المسألة في الفروع وعند أبي حنيفة رحمه الله يستلقي على ظهره ولك أن تقول إنه لما حصر أمر الذاكر في الثلاثة دل على أنّ غيرها ليس من هيئته والصلاة مشتملة على الذكر فلا ينبغي أن تكون على غيره فتأمل”

في شرح المهذب للنووي:
* (وإن عجز عن القيام والقعود صلى على جنبه ويستقبل القبلة بوجهه ومن أصحابنا من قال يستلقي على ظهره ويستقبل القبلة برجليه والمنصوص في البويطي هو الأول والدليل عليه ما روى علي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم ” قال يصلي المريض قائما فإن لم يستطع صلى جالسا فإن لم يستطع صلى على جنبه مستقبل القبلة فإن لم يستطع صلى مستلقيا على قفاه ورجلاه إلى القبلة وأومأ بطرفه ولأنه إذا اضطجع على جنبه استقبل القبلة بجميع بدنه وإذا استلقى لم يستقبل القبلة إلا برجليه ويومى إلى الركوع والسجود فإن عجز عن ذلك أومأ بطرفه لحديث علي رضي الله عنه
* (الشرح) حديث علي رضي الله عنه رواه الدارقطني والبيهقي بإسناد ضعيف وقال فيه نظر.

كتبه
مشرف بيگ اشرف
دارالافتاء والإرشاد، مسجد سید الشھداء حمزہ،
گلی نمبر 3D ، ایف ٹن ٹو، اسلام آباد
m.mushrraf@gmail.com

Textual futurism of Pakistani spiritual leadership پاکستانی مجدد ین امت اور انسانیت کا مستقبل

Uthmani Deobandis represent neo Tahawi separatism. Madani Deobandis represent neo Tahawi integration. During globalization, Tabligh represents cultural separatism and political integration. A post Tablighi should be a cultural separatist and politically assertive neo Tahawi. Tawhidi neo Naqshbandis in Pakistan are good post Tablighi neo Tahawis. At global level neo Tahawi Tawhid can integrate Arab Salafism and Arab Sufism. Pakistani Nasaais can integrate global ajami gentile Husaynis and global ajami gentile sufis like Pakistani Attaris. When we achieve intrafaith ecumenical integration and harmony, we can become global leaders in interfaith dialogue and harmony which can compete with sexual revolution based on greco fascist stalinism. Isa alayhis salam will finally make modern neo paganism redundant when believers achieve triumph of human rights and accuracy.

غلبہ اسلام کے لئے تفضیل و تقریب مسالک درکا ر ہے اور جب امت محمدی صفت رحماء بینہم اور قرآنی اجماعی اجتہاد پر کاربند ہوجائے
تو دعوت اہل کتاب سہل ہوجائے گی اور آخرکار نزول عیسی فی دمشق کے ذریعے ابدال شام اور انصار یمانی و خراسانی بے خود حکمت و رحمت کے ذریعے شرک یونانی اور ہندی کو غیر ضروری بنا دیں گے اور انسانیت آخرکار عدل فاطمی اور جمال مہدوی کی برکات سے مستفید ہوگی

اللهم اجعلنا من انصار مجدد الفاطمى الموعود