Urdu guideline about Islamic prayer posture during illness

:::مریض کا پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھنا: شوافع واحناف کا اختلاف اور سورة آل عمران کی ایک آیت کی وضاحت:::

قرآن مجید کی آیت ھے: “الذين يذكرون الله قياما وقعودا وعلى جنوبهم"
حنفیہ کا مذھب ھے کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھو کھڑے نہیں پڑھ سکتے بیٹھ کر پڑھو بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھو
اب لیٹنے کا طریقہ عند الاحناف سیدھا لیٹنا ھے جس میں سر تھوڑا اٹھا کر قبلے کی طرف ہو اور پیر قبلے کی طرف ہو
اور شافعیہ کے ہاں ایک طرف لیٹنے کا ھے یعنی جنوبهم. ظاہری آیت شافعیہ کو سپورٹ کر رہا ھے احناف کے پاس سیدھا لیٹنے کا قوی دلیل کیا ھے شکریہ

الجواب باسم ملهم الصواب:

سب سے پہلے حنفیہ اور شافعیہ کا موقف یہ ہے کہ:

۱: امام ابو حنیفہ کے ہاں اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھنے کی سکت نہ رکھتا ہو، تو وہ لیٹ کر پڑھ لے، خواہ کروٹ کے بل خواہ چت لیٹ کر۔ البتہ چت لیٹ کر پڑھنا بہتر ہے۔

۲: لیکن امام شافعی صاحب – رحمه الله تعالى – کے ہاں وہ کروٹ کے بل لیٹے گا۔ اگر اس کی سکت نہ ہو تو چت لیٹ کر۔

اس کے بعد سورة آل عمران کی آیت کی طرف آتے ہیں:

۱: سورة آل عمران کی یہ آیت بلاشبہ مریض کی نماز میں اصل کی حیثیت رکھتی ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف ہیئتوں سے نماز پڑھی جا سکتی ہے لیکن اس آیت میں سرے سے ترتیب کا تذکرہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ دوسری نصوص یا دلائل سے لی گئی ہے کہ یہاں حرف عطف “و" استعمال ہوا ہے جو ترتیب کے لیے نہیں آتا۔

۲: چناچہ علامہ بیضاوی جو خود شافعی مفسر وعالم ہیں اس کی دو تفسیریں لکھتے ہیں:

—— پہلی تفسیر کے مطابق اس کے معنے ہوئے کہ عقل والے “أولو الألباب" ہرحال میں اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں۔ اس لیے، اس تفسیر کی وضاحت انہوں نے اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – کے اس فرمان سے کی ہے کہ: “جو چاہے کہ جنات کے باغات میں خوب چرے، تو وہ کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کرے"

ان کی عبارت ملاحظہ ہو:

أي يذكرونه دائما على الحالات كلها قائمين وقاعدين ومضطجعين، وعنه عليه الصلاة والسلام «من أحب أن يرتع في رياض الجنة فليكثر ذكر الله»

—— دوسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ اس آیت سے مراد ہی یہ ہو کہ تین ہیئتوں ہی پر نماز ہو سکتی ہے اور اس کے بعد انہوں نے عمران بن حصین – رضي الله تعالى عنه – کی حدیث نقل کی ہے جس میں اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – نے انہیں یہ فرمایا کہ: “کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر سکت نہ ہو، تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی سکت نہ ہو، تو پہلو پر اشارے سے پڑھ لو"

لیکن انہوں نے خود بھی اس تفسیر کو کمزور قرار دیا ہے۔ ان کی عبارت ملاحظ ہو:

وقيل معناه يصلون على الهيئات الثلاث حسب طاقتهم لقوله عليه الصلاة والسلام لعمران بن حصين: «صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب تومئ إيماء»

اور اس تفسیر پر ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر نماز کی تین ہی حالتیں ہیں، یعنی کھڑا ہونا، بیٹھنا اور پہلو پر ہونا، تو اگر کوئی اس پر قادر نہ ہو، تو اس کی نماز درست ہی نہ ہو، لیکن بالاتفاق اگر کوئی اس پر قادر نہ ہو، تو وہ چت لیٹ کر پڑھے گا۔

اور یہی وجہ ہے کہ علامہ شیرازی اور علامہ نووی نے المهذب وشرحه میں، شوافع کے موقف کی بنیاد، اس آیت پررکھی ہی نہیں۔ علامہ شیرازی نے حضرت علی – رضي الله تعالى عنه – کی ایک روایت نقل کی جس میں اس ترتیب کا تذکرہ ہے، اگرچہ علامہ نووی نے اسے خود ہی ضعیف قرار دے دیا ہے۔ (عربی حاشیہ ملاحظہ ہو)

۳: البتہ شوافع کے لیے استدلال عمران بن حصین – رضي الله تعالى عنه – کی حدیث کے ظاہر سے کیا جا سکتا ہے جس میں اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – نے تیسرے درجے میں فرمایا کہ: “على جنب" کہ پہلو پر لیٹ کر پڑھ لو۔

۴: لیکن اس کا جواب علامہ سرخسی وغیرہ نے یہ دیا ہے کہ انہیں دراصل بواسیر کی بیماری تھی اس لیے اللہ کے نبی – صلى الله عليه – نے انہیں پہلو پر لیٹنے کے لیے کہا تھا۔ چناچہ بخاری شریف میں جہاں یہ روایت آئے ہے اس کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ:

“كانت بي بواسير، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم عن الصلاة" (صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدا صلى على جنب)

ترجمہ: مجھے بواسیر کی بیماری تھی، میں نے اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – سے نماز کی بابت استفسار کیا

۵: نیز اگر یہ کہا جائے کہ: “على جنب" یا “على جنوبهم" دراصل محاورہ ہے جس میں ہر طرح سے لیٹنا شامل ہے تو بعید نہیں۔ چناچہ سورة يونس کی مندرجہ ذیل آیت ملاحظہ ہو

وَإِذَا مَسَّ الإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا [سورة يونس: 12]

ترجمہ: جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو ہمیں پکارتا ہے “لیٹے ہوئے"، بیٹھے ہوئے، کھڑے ہوئے

بلاشبہ، یہاں یہ مقصود نہیں کہ صرف پہلو کے بل پکارتا ہے، بلکہ چت لیٹا ہو یا الٹا لیٹا ہوا بھی تب بھی پکارتا ہے اور اس تعبیر سے انسان کی تمام حالتوں کو بیان کرنا مقصود ہے کہ انسان کھڑا ہو گا، بیٹھا ہو گا اور لیٹا ہوا ہو گا۔ اسے علم البلاغة میں تعميم الأحوال کہتے ہیں۔ اوراس سے سورة آل عمران کی زیر بحث آیت کی پہلی تفسیر بھی مزید راجح قرار پاتی ہے کہ وہاں یہی مراد ہے کہ “ہر حال میں اللہ کا ذکرکرتا ہے" اور اس آیت کو مریض کے لیے فقہا (علامہ سرخسی وغیرہ) نے اگر اصل قرار دیا ہے، تو محض اتنی حد تک کہ مختلف ہیئتوں میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ باقی باتوں کا ثبوت دوسرے دلائل سے ہے۔

اس لیے، احناف کے ہاں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ بے بس وبیمار اگر پہلو کر بل لیٹ سکتا ہے، تو اسے اسی ہیئت میں نماز پڑھنی پڑی گی کہ ایسے پابندی پر کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔والله أعلم

=======================

في حاشية الشهاب الخفاجي على تفسير البيضاوي:"(فهو حجة) إن رجع الضمير إلى الحديث فظاهر وان رجع إلى القول به في الآية فكونه لا ينهض
حجة غني عن البيان وبسط المسألة في الفروع وعند أبي حنيفة رحمه الله يستلقي على ظهره ولك أن تقول إنه لما حصر أمر الذاكر في الثلاثة دل على أنّ غيرها ليس من هيئته والصلاة مشتملة على الذكر فلا ينبغي أن تكون على غيره فتأمل"

في شرح المهذب للنووي:
* (وإن عجز عن القيام والقعود صلى على جنبه ويستقبل القبلة بوجهه ومن أصحابنا من قال يستلقي على ظهره ويستقبل القبلة برجليه والمنصوص في البويطي هو الأول والدليل عليه ما روى علي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم " قال يصلي المريض قائما فإن لم يستطع صلى جالسا فإن لم يستطع صلى على جنبه مستقبل القبلة فإن لم يستطع صلى مستلقيا على قفاه ورجلاه إلى القبلة وأومأ بطرفه ولأنه إذا اضطجع على جنبه استقبل القبلة بجميع بدنه وإذا استلقى لم يستقبل القبلة إلا برجليه ويومى إلى الركوع والسجود فإن عجز عن ذلك أومأ بطرفه لحديث علي رضي الله عنه
* (الشرح) حديث علي رضي الله عنه رواه الدارقطني والبيهقي بإسناد ضعيف وقال فيه نظر.

كتبه
مشرف بيگ اشرف
دارالافتاء والإرشاد، مسجد سید الشھداء حمزہ،
گلی نمبر 3D ، ایف ٹن ٹو، اسلام آباد
m.mushrraf@gmail.com

發表迴響

在下方填入你的資料或按右方圖示以社群網站登入:

WordPress.com 標誌

您的留言將使用 WordPress.com 帳號。 登出 /  變更 )

Twitter picture

您的留言將使用 Twitter 帳號。 登出 /  變更 )

Facebook照片

您的留言將使用 Facebook 帳號。 登出 /  變更 )

連結到 %s