Why blind pro-traditionalists hate contemporary scholars?

Muhammad Mushrraf

8 ساعة · ما ترك الأول للآخر شيئا <<<>>> كم ترك الأول للآخریہ شکوی کئي زبانوں پر سننے کو ملتا ہے کہ جو شخصیت اس دار فانی سے آخرت کو سدھار جاتی ہے، اس کی نئی تحقیق یا جدید بات “درخور اعتنا" سمجھی جاتی ہے، لیکن جو شخصیت زندہ ہو اور کوئی اپنی طبع زاد بات یا نظریہ پیش کرے تو زمانہ اسے محض علمی پیمانے پر پرکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا، اسے قبول کرنا تو بہت دور کی بات ہے، إلا ما شاء الله تعالى۔یہ شکوی کوئی نیا نہیں، ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا آیا، اسی حوالے سے ایک حنفی امام “خیر الدین رملی" نے، جو علامہ حصکفی صاحب “الدر المختار" کے استاد تھے، ایک شعر کہا:قل لمن ير المعاصر شيئا : ويرى للأوائل التقديما إن ذلك القديم كان حديثا : وسيقى هذا الحديث قديماترجمہ: کہہ دو اسے جو اپنے زمانے والے کو کچھ نہیں سمجھتا اور جو پہلے گزر گئے انہیں ہی ہر معاملے میں مقدم ہے سمجھتا کہ جو پہلے گزر گیا وہ بھی کبھی “نیا" (اور کسی کا ہم عصر) تھا اور جو نیا ہے وہ بھی ایک دور میں “پہلوں" میں سے ہو جائے گا۔امام مبرد اس حوالے اپنے تجربہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں کہ کئی لوگ اس مصیبت میں مبتلا نظر آتے ہیں، انہیں کوئی علمی نکتہ بغیر نام لئے بیان کیا جائے، تو اس پر اش اش کراٹھتے ہیں، لیکن جب وہی علمی بات کسی ہم عصر کے حوالے سے بتائی جائے تو ایک سو اسی درجے کے زاویے پر پھر گئے اور اس پر نقد وجرح کے تیر برسانے لگے۔مشہور حنفی عالم علامہ عبد الحي لکھنوی نے فقہ حنفی کی مشہور کتاب “الجامع الصغير" پر حاشیہ چڑھایا، جب اس سے فارغ ہوئے تو اس کے لئے ایک جاندار مقدمہ بھی تحریر فرمایا۔ مولانا لکھنوی مقدمے میں فقہ حنفی سے منسوب ائمہ اور فقہا کے درجات بیان کرنے اور فقہ حنفی میں متعمد اور قابل اعتبار کتابوں میں درجہ بندی کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ:"یہ درجوں اور رتبوں میں فرق زمانے کے آگے پیچھے ہونے کے لحاظ سے نہیں، بلکہ ان کتابوں کے قلم کاروں کے علمی رتبے کی بنیاد پرہے، ضروری نہیں کہ ہر بعد میں آنے والے کی تصنیف پہلوں سے کہتر ہو، بلکے کبھی کبھی بعد میں آنے والے کی کتاب کا پلڑا اس کی صفات کی وجہ سے پہلوں کی کتابوں پر بھاری ہو جاتا ہے، جس نے بھی بصیرت کی نگاہ دوڑائی اس سے یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں ہے"رحمه الله تعالى هؤلاء العلماء الأحرار، وجزاهم عنا خير الجزاء ————– النافع الكبير لمن يطالع الجامع الكبير، لعبد الحي اللكنوي، في نهايى الفصل الأول في ذكر طبقات الفقهاء والكتب وكيفية شيوع العلم خلفا وسلفا

التعليقات

Asa. Mere ek Tablighi colleague mujhe Jamate Islami ka hami samajhtay he kiyuke me ek Jamat ke sathi ke sath guftagu karta hu. Woh akthar Syed Mawdudi ke gumrah honay ka tazkirah mujh se kartay he balke kehte he ke 1000 alimo ne Syed Mawdudi ki takfir ki. To me jawab me kehta hu ke Mulla Ali Qari ne wahdatul wujud ko kufr qarar diya he lekin Deoband ke akabir Ibn Arabi se is kay bawajud husne dhann rakhtay he. Taqi ud din Nabhani per bhi azabe qabar ke inkar ka ilzam he. Syed Qutab per takfire ummat ka alzam he kiyu ke ap ne kaha he ke ummat dobara jahiliyyat me dakhil ho chuki he. Mawlana Ashraf Ali Thanwi Zamakhshari jo ek Mutazili the awr taqdir ke baray me ghalat nazariyya rakhte the un ka hawala Quran samajhnay me pesh kar saktay he, to in mandarijah bala asar shakhsiyyat se bhi husne dhann rakhne me koi muzaiqa nahi hona chahiye.

發表迴響

在下方填入你的資料或按右方圖示以社群網站登入:

WordPress.com 標誌

您的留言將使用 WordPress.com 帳號。 登出 /  變更 )

Twitter picture

您的留言將使用 Twitter 帳號。 登出 /  變更 )

Facebook照片

您的留言將使用 Facebook 帳號。 登出 /  變更 )

連結到 %s