Blog

  • Muttalib bin Abdullah bin Hantab(r) narrates the virtues of both Holy Companions(r) and Prophetic family(r)

    .خطبنا رسول الله صَلَّى الله عليه وسلم قال: “إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنِ اثْنَتَيْنِ، عَنِ الْقُرْآنِ، وَعَنْ عِتْرَتِي”
    أنَّ النبيَّ صَلَّى الله عليه وسلم رأى أبا بكر وعمر فقال: “هَذَانِ السَّمْعُ والبَصَرُ”
  • The children of Imam Hasan(r) in Morocco memorized Muwatta of Imam Malik(r)

    Imam Malik(r) learnt leaving the hands unfolded in prayers from grandson of Imam Hasan(r) as known as Abdullah Alkamil(r).
    The son of Imam Hasan(r) asked Imam Husain(r) to marry one of his daughters. Imam Husain(r) said: Choose one. So, he felt shyness of modesty. So, Imam Husain(r) said: Marry my daughter Fatimah(r) because she looks like my mother Fatimah(r). From this marriage, Abdullah Alkamil(r) was born.
  • Shia narrations against grave worship

    آیت اللہ شریعت سنگلجی اپنی کتاب “توحید عبادت ” میں صفحہ 125 اور 126 میں فرماتے ہیں:
    ” اسلام نے توحید کی حفاظت اور قبروں کی عبادت کے سد باب کیلے درج ذیل احکامات وضع کئے:
    پہلا حکم:اسلام نے قبروں کو ہموار(امین کے برابر) بنانے کا حکم دیا ———————————————————————————-
    1-. روى الشهيد الأول( ) في كتابه الفقهيّ «الذكرى» روايةً عن أبي الهياج الأسديّ أن أمير المؤمنين – عليه السلام – قال له: «أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي بِهِ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أَنْ لا تَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلا سَوَّيْتَهُ وَلا تِمْثَالا إِلا طَمَسْتَهُ»
    شہید اول نے کتاب ذکری میں ابی الھیاج سے روایت کیا کہ علی ع نے ان سے کہا کہ: کیا میں اس کام پر تمہیں نہ بھیجوں جس کام پر مجھے رسول اللہ ص نے بھیجا تھا،یہ کہ جو قبر زمین سے بلند تر نظر آئے اسے زمین کے برابر کرو اور جو تصویر/ تمثال و مجسمہ نظر آئے اسے مٹا دو۔
    نیز شهید ثانی نے “ذکری” میں فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ص کے بیٹے ابراہیم کی قبر قبر کو ہموار/زمین کے برابر بنایا گیا تھا۔
    پھر آپ فرماتے ہیں کہ قاسم بن محمد نے کہا کہ میں نے نبی اکرم ص اور شیخین کی قبروں کو دیکھا جو کہ زمین کے برابر بنائیے گئے تھے اس کے علاوہ قبر مھاجرین و انصار بھی مدینہ میں زمین کے برابر بنائے گئے تھے۔
    2- وَعن جابرٍ «نَهَى رسول الله أن يُجصَّصَ القبرُ أو يُبْنَى عليهِ أو أنْ يُقْعَدَ عليه» . حضرت جابر سے روایت ہے رسول اللہ ص نے قبروں پر گچ کاری کرنے اور اس پر تومیر کرنے اور قبروں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
    3- وفي «تهذيب الأحكام» «عَنْ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ مُوسَى – عليه السلام – عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ وَالجُلُوسِ عَلَيْهِ هَلْ يَصْلُحُ؟ قَالَ: لا يَصْلُحُ الْبِنَاءُ عَلَيْهِ وَلا الْجُلُوسُ وَلا تَجْصِيصُهُ وَلا تَطْيِينُهُ.»( ). حضرت علی بن جعفر سے مروی ہے کہ میں نے ابولحسن موسی ع سے سوال کیا کہ قبروں پر تعمیر کرنے اور ان پر بیٹھنا کیا یہ درست عمل ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ قبروں پر کچھ تعمیر کرنا درست نہیں اور نہ ہی اس پر بیٹھنا درست ہے۔اور قبروں کی گچ کاری اور ان کی گل کاری بھی درست نہیں۔
    دوسرا حکم: جب قبریں خراب ہو جائے تو قبروں کی تجدید جائز نہیں اور نہ ہی اس کی گچ کاری جائز ہے —————————————————————————————————
    1-روى الأصبغ بن نباتة عن أمير المؤمنين عليه السلام أنه قال: «مَنْ جَدَّدَ قبراً أو مَثَّلَ مثالاً، فَقَدْ خَرَجَ عَنِ الإسْلامِ»( ).
    امیر المومنین علی ع سے مروی ہے کہ آپ ع نے فرمایا:جس نے کسی قبر کی تجدید کی یا پھر کوئی مجسمہ بنایا وہ اسلام سے خارج ہے
    2- عن حضرة الإمام الصادق عليه السلام: «لا تَبْنُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلا تُصَوِّرُوا سُقُوفَ الْبُيُوتِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم كَرِهَ ذَلِكَ.» اسی طرح امام جعفر صادق ع سے مروی ہیں کہ: قبروں پر تعمیر مت کرو،اور نہ ہی گھروں کی چھتوں کو تصویروں سے مزین کرو کیونکہ رسول اللہ ص نے ان چیزون کو ناپسند فرمایا ہے۔
    تیسرا حکم:اسلام نے قبروں میں عبادت اور نماز پڑھنے سے منع کیا ———————————————————————————— جیسا کہ بہت سئ صحیح احادیث اس بارے میں وارد ہوئیں جو کہ مسلم و محقق ہے،ان احادیث کی صحت پر شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تمام اہل اسلام کے نزدیک یہ احادیث صحیح ہیں۔-
    1-أنالرسول الأكرم صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا تَتَّخِذُوا قَبْرِي قِبْلَةً وَلا مَسْجِداً فَإِنَّ اللَّهَ تعالى لَعَنَ الْيَهُودَ حِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» .
    رسول اکرم ص نے فرمایا:میرے قبر کو قبلہ مت بناؤ اور اس کو مسجد(سجدے کی جگہ) بھی مت بناؤ کیونکہ اللہ تعالی نے یہود و نصاری کو اس وجہ سے لعنت کی جب انہوں نے اپنے انبیاء کے قبروں پر مساجد بنائے(سجدگاہ بنایا) ۔
    2- كما نقل الشهيد الأول في «الذكرى» عن حضرة الصادق عليه السلام( ) أنه قال: «لا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلا تُصَلُّوا إِلَيْهَا» ۔
    امام جعفر صادق نے فرمایا:قبروں پر مت بیٹھو اور اس کی طرف نماز بھی مت پڑھو۔
    3- وعَنْ سَمَاعَةَ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِيهَا فَقَالَ: «أَمَّا زِيَارَةُ الْقُبُورِ فَلا بَأْسَ بِهَا وَلا تُبْنَى عِنْدَهَا الْمَسَاجِدُ» .
    سماعہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق ع سے سوال کیا کہ زیارت قبور اور قبروں پہ مساجد تعمیر کرنے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ ع نے فرمایا: زیارت قبور میں تو کوئی حرج نہیں البتہ قبروں کے پاس مساجد مت بناؤ۔
    اور اس بات پر فقہائے کرام کا اجماع ہے کہ قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا (سوئے قبر) یا قبر پر نماز پڑھنا(روئے قبر) مکروہ ہے۔اور ابن بابویہ قمی کے نزدیک قبروں پر نماز پڑھنا حرام ہے۔ اور محقق ثانی کتاب “جامع المقاصد” میں فرماتے ہیں کہ شیخ مفید اور شیخ طوسی دونوں کا قول ہے کہ قبروں(کے بیچ) میں نماز پڑھنا مطلقا مکروہ ہے اگرچہ/خواہ قبر امام علیہ السلام ہی کیوں نہ ہو۔”
    نوٹ: آیت اللہ شریعت غلام رضا حسن سنگلجی قبر پرستی کے سخت خلاف تھے ان سے بھی قبل ایک عالم آقای شیخ ابراہیم زنجانی نے بھی قبر پرستی کے رد میں اپنی کتاب “خاطرات” میں فرمایا کہ مشرکین یا عباد اصنام جو کچھ قبروں یا اوثان کے پاس کرتے تھے آج ہم مسلمان یہی کچھ کر رہے ہیں۔سلام ہو ان حق گو علماء پر
  • Zechariah 9:13:Biblical basis for resisting Hellenistic modern culture

    Divine peace or shalom in hebrew be upon those who follow divine guidance. I am an orthodox Muslim electrical engineer. We believe Zechariah 9:9 was fulfilled in Caliph Umar(r) righteous conquest of Jerusalem on a mule. Zechariah 9:13 is a great biblical basis for resisting Hellenistic influence which is pervasive in modern Zionism and which makes orthodox Islam more resistant to modern Zionism. So, this led me to Maccabees revolt against Hellenistic influence.
  • How secular loopholes in Christianity give birth to a Godless culture?

    This article explains why Church contains secular loopholes to give birth to a secular culture like the modern western secular culture. The other loopholes are condoning interest, antinomianism and apolitical mysticism which gives rise to secular politics. Jesus peace be upon him supposedly confesses in bible that he drank wine unlike John peace be upon him.
  • Shia scholar who narrates from Companion Anas bin Malik(r)

    Shia believers accuse the Companion Anas bin Malik of being not an honest narrator of Hadith. But here we see that Shia scholar Ali bin Zayd bin Jud’an narrates a Hadith he heard from him during the battlefield.
    It was narrated that Anas bin Malik said: “If a female slave among the people of Al-Madinah were to take the hand of the Messenger of Allah (ﷺ), he would not take his hand away from hers until she had taken him wherever she wanted in Al-Madinah so that her needs may be met.”
    حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَسَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ إِنْ كَانَتِ الأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَمَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي حَاجَتِهَا ‏.‏
    Grade: Sahih (Darussalam)
  • Shia scholar of Prophetic Sunnah who participated in battle in the army of Ameer Mu’awiyah  

    His name was Abu Ishaq As-Sabeei.
    He used to recite complete Quran in three days.
    كان يقرأ القرآن كاملاً كل ثلاثة أيام
    Jarir bin Abdul Hamid says: Who sat in the company of Abu Ishaq it is as if he sat in the company of Ali may Allah be pleased with him.
    قال جرير بن عبد الحميد: «كان يقال: من جالس أبا إسحاق، فقد جالس عليًّا رضي الله عنه»
    شارك في الغزوات الإسلامية على الدولة البيزنطية في خلافة معاوية بن أبي سفيان
    سير أعلام النبلاء » الطبقة الثالثة
    He narrates that the Messenger of Allah(s) said: Ali is like a tree and I am its root, Ali is its branch, Hasan and Husain are its fruit and our lovers and followers are its leaves.
    کما في ترجمته من الميزان – عن ابي اسحاق (قال): قال رسول الله صلي الله عليه وآله: علي کشجرة أنا أصلها، وعلي فرعها، والحسن والحسين ثمرها، والشيعة ورقها
  • Sunni scholar Imam Tabarani(r) narrates who will enter Paradise first

    قد أخرج الطبراني في معجمه الکبير بالاسناد إلي محمد بن عبيدالله بن ابي رافع، عن ابيه، عن جده: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم، قال لعلي: أول من يدخل الجنة أنا وأنت، والحسن والحسين، وذرارينا خلفنا، وشيعتنا عن أيماننا وشمائلنا
    The Messenger of Allah(s) said to Ali may Allah be pleased with him: The first to enter Jannah are I and you, and Hasan and Husain and our descendants before us and our lovers and followers towards our right and left.
  • The supposed debate of Imam Abu Hanifah(r) and unknown Fazzal bin Hasan

    جناب فضال کا ابو حنیفہ سے دلچسپ مناظرہ
    امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کا زمانہ تھا ایک دن مسجد کو فہ میں ابو حنیفہ درس دے رہاتھااس وقت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک شاگرد ”فضال بن حسن “اپنے ایک د وست کے ساتھ ٹہلتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ابو حنیفہ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ انھیں درس دے رہے ہیں، فضال نے اپنے دوست سے کہا: ”میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاوٴں گا جب تک ابو حنیفہ کو مذہب تشیع کی طرف راغب نہ کر لوں۔“فضال اپنے اس دوست کے ساتھ اس جگہ پہنچے جہاں ابو حنیفہ بیٹھے درس دے رہے تھے، یہ بھی ان کے شاگرد وں کے پاس بیٹھ گئے۔تھوڑی دیرکے بعد فضال نے مناظرہ کے طور پر اس سے چند سوالات کئے۔فضال: ”اے رہبر !میرا ایک بھائی ہے جو مجھ سے بڑا ہے مگر وہ شیعہ ہے۔حضرت ابوبکر کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے میں جو بھی دلیل لے آتا ہوں وہ رد کردیتا ہے لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے چند ایسے دلائل بتادیں جن کے ذریعہ میں اس پر حضرت ابوبکر ،عمراور عثمان کی فضیلت ثابت کر کے اسے اس بات کا قائل کر دوں کہ یہ تینوں حضرت علی سے افضل وبر تر تھے ۔“ابو حنیفہ: ”تم اپنے بھائی سے کہنا کہ وہ آخر کیوں حضرت علی کو حضرت ابو بکر ،عمر اور عثمان پر فضیلت دیتا ہے جب کہ یہ تینوں حضرات ہر جگہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت میں رہتے تھے اور آنحضرت ،حضرت علی علیہ السلام کو جنگ میں بھیج دیتے تھے یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ان تینوں کو زیادہ چاہتے تھے اسی لئے ان کی جانوں کی حفاظت کے لئے انھیں جنگ میں نہ بھیج کر حضرت علی علیہ السلام کو بھیج دیا کرتے تھے ۔“فضال: ”اتفاق سے یہی بات میں نے اپنے بھائی سے کہی تھی تو اس نے جواب دیا کہ قرآن کے لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام چونکہ جہاد میں شرکت کرتے تھے اس لئے وہ ان تینوں سے افضل ہوئے کیونکہ قرآن مجید میں خدا کاخود فرمان ہے:” وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ اٴَجْرًا عَظِیمًا “”خدا وند عالم نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت بخشی ہے“۔ابو حنیفہ: ”اچھا ٹھیک ہے تم اپنے بھائی سے یہ کہو کہ وہ کیسے حضرت علی کو حضرت ابو بکر و عمر سے افضل وبرتر سمجھتا ہے جب کہ یہ دونوں آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے پہلو میں دفن ہیں اورحضرت علی علیہ السلام کا مرقد رسول سے بہت دور ہے ۔رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے پہلو میں دفن ہونا ایک بہت بڑا افتخار ہے یہی بات ان کے افضل اور بر تر ہونے کے لئے کافی ہے ۔“فضال: ”اتفاق سے میں نے بھی اپنے بھائی سے یہی دلیل بیان کی تھی مگر اس نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا وند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:”لاَتَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلاَّ اٴَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ“”رسول کے گھر میں بغیر ان کی اجازت کے داخل نہ ہو“۔یہ بات واضح ہے کہ رسو ل خدا کا گھر خود ان کی ملکیت تھا اس طرح وہ قبر بھی خود رسول خدا کی ملکیت تھی اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اانھیں ا س طرح کی کوئی اجازت نہیں دی تھی اور نہ ان کے ورثاء نے اس طرح کی کوئی اجازت دی۔“ابو حنیفہ: ”اپنی بھائی سے کہو کہ عائشہ اور حفصہ دونوں کا مہر رسول پر باقی تھا، ان دونوں نے اس کی جگہ رسو ل خدا کے گھر کا وہ حصہ اپنے باپ کو بخش دیا۔ فضال: ”اتفاق سے یہ دلیل بھی میں نے اپنے بھائی سے بیان کی تھی تو اس نے جواب میں کہا کہ خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرما تا ہے۔” یَااٴَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا اٴَحْلَلْنَا لَکَ اٴَزْوَاجَکَ اللاَّتِی آتَیْتَ اٴُجُورَہُنّ“”اے نبی!ہم نے تمہارے لئے تمہاری ان ازواج کو حلال کیا ہے جن کی اجرتیں (مہر)تم نے ادا کر دی“۔اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اپنی زندگی میں ہی ان کا مہر ادا کر دیا تھا“۔ابو حنیفہ: ”اپنے بھائی سے کہو کہ عائشہ حفصہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بیویاں تھیں انھوں نے ارث کے طور پر ملنے والی جگہ اپنے باپ کو بخش دی لہٰذا وہ وہاں دفن ہوئے“۔فضال: ”اتفاق سے میں نے بھی یہ دلیل بیان کی تھی مگر میرے بھائی نے کہا کہ تم اہل سنت تو اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ پیغمبر وفات کے بعد کوئی چیز بطور وراثت نہیں چھوڑتا اور اسی بنا پر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی بیٹی جناب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو تم لوگوں نے فدک سے بھی محروم کردیا اور اس کے علاوہ اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ خداکے نبی وفات کے وقت وارث چھوڑتے ہیں تب یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ جب رسول صلی الله علیه و آله وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت آپ کی نو بیویاں تھیں۔ اور وہ بھی وارث کی حقدار تھیں اب وراثت کے قانون کے لحاظ سے گھرکا آٹھواں کاحصہ ان تمام بیویوں کا حق بنتا تھا اب اگر اس حصہ کو نو بیویو ں کے درمیان تقسیم کیا جائے تو ہر بیوی کے حصے میں ایک بالشت زمین سے زیادہ نہیں کچھ نہیں آئے گا ایک آدمی کی قد وقامت کی بات ہی نہیں“۔ابو حنیفہ یہ بات سن کر حیران ہو گئے اور غصہ میں آکر اپنے شاگردوں سے کہنے لگے:”اسے باہر نکالو یہ خود رافضی ہے اس کا کوئی بھائی نہیں ہے“
    Ishmael Abraham Fazzal bin Hassan agar waqi Imam As-Sadiq(as) ka shagird tha to Shia Rawiyo ki kitabo me uska nam kiyu nahi milta. Imam Jafar As-Sadiq(as) ne khud Imam Abu Hanifah(r) ki tareef in alfaz me ki he. «رحم الله أبا حنيفة ، لقد تحققت مودته لنا في نصرته ،” Allah Abu Hanifah per rehem kare unho ne Imam Zayn Al-Abidin(as) ke bete Zayd bin Ali ka sath de kar Ahlebayt ki muhabbat ko sacha sabit kar diya. Imam Ali(as) Nahjul Balaghah Khutbah 126 me Kharijio se kehte he ke Sahabah ki akthariyyat yani Sawade Azam ki ittiba karo awr Aj Ulama ki akthariyyat Fiqhe Hanafi ka ittiba karti he. Iran ke zalim Ismail Safawi ne Imam Abu Hanifah(r) se itna bughaz rakha ke unki qabar ko khola awr unki lash to jalwaya awr unki mayyat ki jaga kala kutta dafan kiya. Jis Ayat ka Fazzal ne hawala diya he ke jihad karne wale afzal he to kiya Zayd bin Ali Imam Jafar As-Sadiq(as) se afzal he kiyuke unho ne jihad kiya. Zaydi Shia Hazrat Ali(r) ko afzal samajhtay he lekin iske bawajud teeno Khulafaye Rashideen(r) ka ehteram karte he.Quran 11:73 me Allah ne Hazrat Sarah ko Hazrat Ibrahim(as) ka Ahlebayt kaha he to keya Hazrat Muhammad(s) ki biwiya unki Ahlebayt nahi. Lihaza Quran ki mukhalafat na kare. Hazrat Ayesha(r) ne Zawjaye Rasul(s) honay ke bawajud apni qabar ki zameen Hazrat Umar(r) ko de di awr khud am qabristan me dafan hui.Hazrat Abubakr(r) ke afzal honay ki riwayat Hazrat Ali(r) ke betay Muhammad bin Hanafiyyah(r) ne ki he
  • Debate with a Shia believer about Fadak

    Zayn Abiya

    Where was she scolded for cursing The Oppressor ? One day, Imam Jafar ibn Muhammad al-Sadiq (as) was eating dates at his home in Kufa when one of his companions, Bashar bin al-Kari, approached him. After exchanging greetings, Imam Jafar al-Sadiq (as) invited Bashar to share the dates but Bashar refused Imam Jafar al-Sadiq’s (as) offer.
    Surprised, Imam Jafar al-Sadiq (as) said to him: By my right over you, sit and eat. As Bashar ate. Imam Jafar al-Sadiq (as) noticed that he looked very sad and asked him the reason for this.
    Bashar replied: While coming, I saw something that made me feel sad. I saw the Caliph’s soldiers beating a woman on her head as they dragged her to prison. She was crying out, ‘By Allah (SWT) and His Prophet Muhammad (saw), please help me!’ But no one dared to do so.
    Imam Jafar al-Sadiq (as) asked Bashar why the woman was treated in that manner and he explained, the woman tripped on a stone and said ‘May Allah (SWT) curse your oppressors! O’ Fatima Zahra (sa).’ When the soldiers heard her, they began to hit her and then arrested her. When he heard this, Imam Jafar al-Sadiq (as) stopped eating and wept so bitterly that his beard became wet with tears. He turned to Bashar and said, “O Bashar”, let us go to Masjid Al-Sahla to pray to Allah (SWT) for the freedom of this woman.
    While they went to Masjid Al-Sahla, Imam Jafar ibn Muhammad al-Sadiq (as) ordered some of his companions to keep watch at Caliph’s gate and bring any news of the woman.
    When they reached Masjid Al-Sahla. Imam Jafer al-Sadiq (as) and Bashar offered two Rakaats for the sake of Allah (SWT). After they had completed their prayers, Imam Jafer al-Sadiq (as) raised his hands in Du’a (Supplication) to Allah (SWT) saying: “O’ Listener of supplications, O’ Lord, O’ Master, O’ Helper, I ask You by every name You have taught us and by those you have kept hidden, to send Your blessings upon Prophet Muhammad (saw) and his pure progeny to free this woman, O’ Lord,…”
    After finishing his supplication, Imam Jafar al-Sadiq (as) said to Bashar: Let us go back, because the woman has been freed!
    When they arrived home, one of his companions, who had been sent to keep watch, had come back with the good news that Caliph had set the woman free!
    Caliph had also offered her 200 dirhams and although she was very poor and needed money, she had refused to take it. Imam Jafar al-Sadiq (as) was very pleased to hear this and he gave Bashar some money to take to the woman.
    Bashar went to the woman’s house with the money and after giving it to her, he told her of Imam Jafar al-Sadiq’s (as) tears and du’a for her freedom. The woman took the money and cried, “Peace be upon you, O’ my Master and Lord, O’ son of Prophet Muhammad (saw).” She turned to Bashar and said, “Tell Imam Jafar al-Sadiq (as) to pray for the followers of Ahlul-Bayt (as). He is our Imam and we do not know anyone else, who would pray and supplicate to Allah (SWT) for us. We do not know anyone else, except him and his fathers, peace be upon them all!”
    Ishmael Abraham Caliph was more tolerant than his soldiers. Imam Ali(as) stopped his army from insulting the people of Syria whose crimes were far more serious than righteous Caliphs. Zayn Abiya so his soldiers are insubordinates? Caliph are so righteous then why murder the Ahlul Bait ? Zayn Abiya Death: Died at the age of 65, in Medina on Monday, 25th Shawwal 148 AH; poisoned by al-Mansur ad-Dawaniqi, the ‘Abbasid caliph. Zayn Abiya But keep supporting the Oppressor , that is why you and your folk are forever cursed and forever subjugated serfs Ishmael Abraham Also, she did not say may Allah curse her killer, so she was referring to Fadak. Zayn Abiya That was forcibly stolen by Abu Bakr and Omar. You do know in those days when people were deprived of thier livelihood they died of hunger right … ? There was no welfare or social services. Fatima (as ) and Fadak was the welfare system supplying food to the poor , elderly and ill . You kinda are feeding my argument , you do know that right. Every time you type something you are indirectly supporting my position Ishmael Abraham They did not use Fadak for personal use. They asked for evidence. According to Quran the evidence should be two men or one man and two women. Imam Ali(as) and Umm Ayman(r) testified, which is one woman less. But Abubakr(r) should have treated Imam Ali(as) as two witnesses like Prophet(s) treated Khuzaymah bin Thabit(r) as two witnesses. So, it was a wrong ijtihad, but every mujtahid commits errors which do not make him kafir.