Shia narrations against grave worship

آیت اللہ شریعت سنگلجی اپنی کتاب “توحید عبادت " میں صفحہ 125 اور 126 میں فرماتے ہیں:
" اسلام نے توحید کی حفاظت اور قبروں کی عبادت کے سد باب کیلے درج ذیل احکامات وضع کئے:
پہلا حکم:اسلام نے قبروں کو ہموار(امین کے برابر) بنانے کا حکم دیا ———————————————————————————-
1-. روى الشهيد الأول( ) في كتابه الفقهيّ «الذكرى» روايةً عن أبي الهياج الأسديّ أن أمير المؤمنين – عليه السلام – قال له: «أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي بِهِ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أَنْ لا تَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلا سَوَّيْتَهُ وَلا تِمْثَالا إِلا طَمَسْتَهُ»
شہید اول نے کتاب ذکری میں ابی الھیاج سے روایت کیا کہ علی ع نے ان سے کہا کہ: کیا میں اس کام پر تمہیں نہ بھیجوں جس کام پر مجھے رسول اللہ ص نے بھیجا تھا،یہ کہ جو قبر زمین سے بلند تر نظر آئے اسے زمین کے برابر کرو اور جو تصویر/ تمثال و مجسمہ نظر آئے اسے مٹا دو۔
نیز شهید ثانی نے “ذکری" میں فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ص کے بیٹے ابراہیم کی قبر قبر کو ہموار/زمین کے برابر بنایا گیا تھا۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ قاسم بن محمد نے کہا کہ میں نے نبی اکرم ص اور شیخین کی قبروں کو دیکھا جو کہ زمین کے برابر بنائیے گئے تھے اس کے علاوہ قبر مھاجرین و انصار بھی مدینہ میں زمین کے برابر بنائے گئے تھے۔
2- وَعن جابرٍ «نَهَى رسول الله أن يُجصَّصَ القبرُ أو يُبْنَى عليهِ أو أنْ يُقْعَدَ عليه» . حضرت جابر سے روایت ہے رسول اللہ ص نے قبروں پر گچ کاری کرنے اور اس پر تومیر کرنے اور قبروں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
3- وفي «تهذيب الأحكام» «عَنْ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ مُوسَى – عليه السلام – عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ وَالجُلُوسِ عَلَيْهِ هَلْ يَصْلُحُ؟ قَالَ: لا يَصْلُحُ الْبِنَاءُ عَلَيْهِ وَلا الْجُلُوسُ وَلا تَجْصِيصُهُ وَلا تَطْيِينُهُ.»( ). حضرت علی بن جعفر سے مروی ہے کہ میں نے ابولحسن موسی ع سے سوال کیا کہ قبروں پر تعمیر کرنے اور ان پر بیٹھنا کیا یہ درست عمل ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ قبروں پر کچھ تعمیر کرنا درست نہیں اور نہ ہی اس پر بیٹھنا درست ہے۔اور قبروں کی گچ کاری اور ان کی گل کاری بھی درست نہیں۔
دوسرا حکم: جب قبریں خراب ہو جائے تو قبروں کی تجدید جائز نہیں اور نہ ہی اس کی گچ کاری جائز ہے —————————————————————————————————
1-روى الأصبغ بن نباتة عن أمير المؤمنين عليه السلام أنه قال: «مَنْ جَدَّدَ قبراً أو مَثَّلَ مثالاً، فَقَدْ خَرَجَ عَنِ الإسْلامِ»( ).
امیر المومنین علی ع سے مروی ہے کہ آپ ع نے فرمایا:جس نے کسی قبر کی تجدید کی یا پھر کوئی مجسمہ بنایا وہ اسلام سے خارج ہے
2- عن حضرة الإمام الصادق عليه السلام: «لا تَبْنُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلا تُصَوِّرُوا سُقُوفَ الْبُيُوتِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم كَرِهَ ذَلِكَ.» اسی طرح امام جعفر صادق ع سے مروی ہیں کہ: قبروں پر تعمیر مت کرو،اور نہ ہی گھروں کی چھتوں کو تصویروں سے مزین کرو کیونکہ رسول اللہ ص نے ان چیزون کو ناپسند فرمایا ہے۔
تیسرا حکم:اسلام نے قبروں میں عبادت اور نماز پڑھنے سے منع کیا ———————————————————————————— جیسا کہ بہت سئ صحیح احادیث اس بارے میں وارد ہوئیں جو کہ مسلم و محقق ہے،ان احادیث کی صحت پر شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تمام اہل اسلام کے نزدیک یہ احادیث صحیح ہیں۔-
1-أنالرسول الأكرم صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا تَتَّخِذُوا قَبْرِي قِبْلَةً وَلا مَسْجِداً فَإِنَّ اللَّهَ تعالى لَعَنَ الْيَهُودَ حِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» .
رسول اکرم ص نے فرمایا:میرے قبر کو قبلہ مت بناؤ اور اس کو مسجد(سجدے کی جگہ) بھی مت بناؤ کیونکہ اللہ تعالی نے یہود و نصاری کو اس وجہ سے لعنت کی جب انہوں نے اپنے انبیاء کے قبروں پر مساجد بنائے(سجدگاہ بنایا) ۔
2- كما نقل الشهيد الأول في «الذكرى» عن حضرة الصادق عليه السلام( ) أنه قال: «لا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلا تُصَلُّوا إِلَيْهَا» ۔
امام جعفر صادق نے فرمایا:قبروں پر مت بیٹھو اور اس کی طرف نماز بھی مت پڑھو۔
3- وعَنْ سَمَاعَةَ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِيهَا فَقَالَ: «أَمَّا زِيَارَةُ الْقُبُورِ فَلا بَأْسَ بِهَا وَلا تُبْنَى عِنْدَهَا الْمَسَاجِدُ» .
سماعہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق ع سے سوال کیا کہ زیارت قبور اور قبروں پہ مساجد تعمیر کرنے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ ع نے فرمایا: زیارت قبور میں تو کوئی حرج نہیں البتہ قبروں کے پاس مساجد مت بناؤ۔
اور اس بات پر فقہائے کرام کا اجماع ہے کہ قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا (سوئے قبر) یا قبر پر نماز پڑھنا(روئے قبر) مکروہ ہے۔اور ابن بابویہ قمی کے نزدیک قبروں پر نماز پڑھنا حرام ہے۔ اور محقق ثانی کتاب “جامع المقاصد" میں فرماتے ہیں کہ شیخ مفید اور شیخ طوسی دونوں کا قول ہے کہ قبروں(کے بیچ) میں نماز پڑھنا مطلقا مکروہ ہے اگرچہ/خواہ قبر امام علیہ السلام ہی کیوں نہ ہو۔"
نوٹ: آیت اللہ شریعت غلام رضا حسن سنگلجی قبر پرستی کے سخت خلاف تھے ان سے بھی قبل ایک عالم آقای شیخ ابراہیم زنجانی نے بھی قبر پرستی کے رد میں اپنی کتاب “خاطرات" میں فرمایا کہ مشرکین یا عباد اصنام جو کچھ قبروں یا اوثان کے پاس کرتے تھے آج ہم مسلمان یہی کچھ کر رہے ہیں۔سلام ہو ان حق گو علماء پر
廣告

發表迴響

在下方填入你的資料或按右方圖示以社群網站登入:

WordPress.com 標誌

您的留言將使用 WordPress.com 帳號。 登出 /  變更 )

Twitter picture

您的留言將使用 Twitter 帳號。 登出 /  變更 )

Facebook照片

您的留言將使用 Facebook 帳號。 登出 /  變更 )

連結到 %s