A journey to communicate science and religion

The text reframes the kalām cosmological argument as a probabilistic, rather than deductive, form of reasoning. Instead of trying to conclusively prove God’s existence, it asks whether evidence such as the universe having a beginning makes God’s existence more reasonable than its denial. On this view, a universe with a beginning is easier to explain if God exists than if God does not, so it counts as supporting evidence, even if it falls short of certainty. The strength of the approach is that it works with partial knowledge, allows cumulative arguments, and avoids classical objections aimed at strict proofs, presenting theism as a rationally strengthened hypothesis rather than a demonstrated conclusion.

محترم و مکرم
آپ کے پیش کردہ تصور کی ازسرِنو تشکیل اگر مکمل طور پر اردو میں کی جائے تو اس کی فکری روح مزید واضح ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں اصل معاملہ الفاظ کا نہیں بلکہ عقلی طریقِ کار کی تبدیلی کا ہے۔ اس متن میں کلامی دلیل کو محض نئے اسلوب میں بیان نہیں کیا گیا، بلکہ دلیل کے پورے ڈھانچے کو ایک ایسے فہم کی طرف منتقل کیا گیا ہے جو جدید انسانی شعور کے زیادہ قریب ہے۔

روایتی کلامی دلیل ایک لازمی اور قطعی منطق پر قائم تھی۔ اس میں یہ مفروضہ کارفرما تھا کہ اگر مقدمات درست ہوں تو نتیجہ ناگزیر طور پر درست ہوگا۔ اس طرزِ استدلال کی اپنی تاریخی اور فکری اہمیت ہے، لیکن جدید ذہن اب اس انداز سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ آج کا علمی مزاج قطعی یقین کے بجائے درجاتی معقولیت کو ترجیح دیتا ہے، یعنی یہ دیکھتا ہے کہ کوئی بات کتنی زیادہ یا کتنی کم معقول ہے، نہ کہ صرف یہ کہ وہ لازماً درست ہے یا لازماً غلط۔

اسی تناظر میں یہ نیا طریقہ سامنے آتا ہے، جس میں ہم کسی دعوے کو ثابت کرنے کے بجائے یہ جانچتے ہیں کہ نئی معلومات ملنے کے بعد اس دعوے کی معقولیت میں اضافہ ہوتا ہے یا کمی۔ یہاں خدا کے وجود کو ایک مفروضے کے طور پر لیا جاتا ہے، اور کائنات کے آغاز کو ایک نئی اطلاع کے طور پر۔ پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس اطلاع کے بعد خدا کے موجود ہونے کا امکان کس سمت میں حرکت کرتا ہے۔

یہ نکتہ غیر معمولی اہم ہے کہ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ “کیا خدا کا وجود منطقی طور پر ثابت ہو گیا؟” بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ “کیا کائنات کا آغاز اس مفروضے کو زیادہ قابلِ قبول بناتا ہے کہ خدا موجود ہے؟” اس تبدیلی کے ساتھ ہی دلیل کا پورا مزاج بدل جاتا ہے۔ یہ اب مناظرہ نہیں رہتی، بلکہ عقلی وزن تولنے کا عمل بن جاتی ہے۔

جب یہ کہا جاتا ہے کہ اگر خدا نہ ہو تو کائنات کے آغاز کا امکان کم ہے، تو اس کا مطلب کوئی مذہبی جذباتی دعویٰ نہیں ہوتا، بلکہ ایک توضیحی موازنہ ہوتا ہے۔ ایک ایسی حقیقت جس میں کوئی ارادہ، کوئی اختیار اور کوئی ماورائی فاعل شامل نہ ہو، وہاں سے ایک زمانی، محدود اور قانون بند کائنات کا ظہور ایک بھاری عقلی قیمت مانگتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر ایک قادر اور ارادی ہستی کو مان لیا جائے تو کائنات کا آغاز کوئی غیر متوقع یا عجیب واقعہ نہیں رہتا، بلکہ ایک قابلِ فہم نتیجہ بن جاتا ہے۔ یوں کائنات کا آغاز خدا کے حق میں ایک معقول علامت بن جاتا ہے، چاہے وہ حتمی ثبوت نہ ہو۔

اس طریقِ استدلال کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کمزور یا جزوی یقین کے ساتھ بھی کام کر سکتا ہے۔ ہمیں اس بات پر سو فیصد یقین ہونا ضروری نہیں کہ کائنات واقعی شروع ہوئی، نہ ہی علت کے اصول پر مکمل قطعیت درکار ہے۔ جزوی یقین، مشروط معلومات اور قابلِ نظرِ ثانی فہم کے ساتھ بھی یہ دلیل اپنی افادیت برقرار رکھتی ہے۔ یہ رویہ جدید سائنسی اور فکری دنیا کے زیادہ قریب ہے، جہاں علم کو ہمیشہ عارضی، قابلِ اصلاح اور ترقی پذیر سمجھا جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قدیم فلسفیانہ اعتراضات اپنی شدت کھو دیتے ہیں۔ جب دلیل کا مقصد خدا کو ثابت کرنا نہ ہو بلکہ اس کے امکان کو بڑھانا ہو، تو یہ اعتراض کہ “یہ دلیل خدا تک نہیں پہنچتی” اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ یہاں خدا ایک لازمی نتیجہ نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا معقول مفروضہ بن جاتا ہے۔

البتہ فکری دیانت کا تقاضا ہے کہ یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ یہ طریقہ کسی ایک نتیجے کو زبردستی مسلط نہیں کرتا۔ سب کچھ اس بات پر منحصر رہتا ہے کہ ہم ابتدائی مفروضات کو کتنا وزن دیتے ہیں اور مختلف امکانات کو کس طرح جانچتے ہیں۔ کوئی سخت طبعی نقطۂ نظر رکھنے والا شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ خدا کے بغیر بھی کائنات کے آغاز کی توضیح ممکن ہے۔ اس اختلاف کے باوجود، بحث ختم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ مہذب، زیادہ واضح اور زیادہ علمی ہو جاتی ہے۔ یہی اس طریقے کی اصل طاقت ہے۔

آخرکار، اس پورے فریم کو یوں سمیٹا جا سکتا ہے کہ یہ دعویٰ نہیں کیا جاتا کہ “کائنات شروع ہوئی، اس لیے خدا ہے”، بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ “اگر ہم عقلی طور پر منصف ہوں تو کائنات کا آغاز خدا کے حق میں ایک وزنی اضافہ ہے۔” یہ استدلال نہ جارحانہ ہے، نہ خطیبانہ، نہ حتمی۔ یہ تدریجی، جمع پذیر اور مکالماتی ہے۔

اسی وجہ سے یہ طریقہ دیگر دلائل، جیسے نظم و ترتیب، شعور، اخلاقی احساس اور فطرت کے قوانین، کے ساتھ مل کر ایک مجموعی عقلی تصویر تشکیل دے سکتا ہے۔ یوں کلامی دلیل ایک اکیلا ستون نہیں رہتی بلکہ ایک ہم آہنگ ڈھانچہ بن جاتی ہے، جس کی قوت کسی ایک نکتے پر نہیں بلکہ مجموعی فہم پر قائم ہوتی ہے۔

Leave a comment