Greco-Roman institutional racism as yunani nasibism

ایک یونانی ناصبی کیا کہتا ہے :
مولانا مودودی کو بلا شبہ عصرِحاضر کا غزالی کہا جا سکتا ہے۔ امام غزالی نے مسلمانوں کے ہاں مادی علم کی ترقی کے سنہرے دور پر متکلمین کی فوج تیار کر کے ایسا وار کیا کہ مادی علوم کو میسر افرادی قوت میں شدید کمی واقع ہو گئی۔ اگرچہ ان کی کتاب تہافۃ الفلاسفہ میں تکفیر کئے جانے کے باوجود عقلی علوم کا چراغ جلتا رہا لیکن مذہبی خطیبوں کی گھن گرج میں اس کی لو بہت مدھم پڑ گئی۔ مولانا مودودی نے بھی اپنی کتب اور پیروکاروں کی مدد سے پاکستان کے تعلیمی اداروں پر ایسا ہی وار کیا ہے۔

發表迴響

在下方填入你的資料或按右方圖示以社群網站登入:

WordPress.com 標誌

您的留言將使用 WordPress.com 帳號。 登出 /  變更 )

Twitter picture

您的留言將使用 Twitter 帳號。 登出 /  變更 )

Facebook照片

您的留言將使用 Facebook 帳號。 登出 /  變更 )

連結到 %s