When bloodline hagiocracy changes into a worldly monarchy

آل سعود سے پہلے حجاز میں آل رسول کی حکومت تھی جن کو عثمانیوں نے علاقائی خود مختاری دے رکھی تھی آل رسول کے بادشاہوں میں نیک و بد گزرے ہیں لیکن ابو نمی الحسنی نامی بادشاہ کو اشراف حجاز کا عمر بن عبد العزیز کہا جاتا ہے جن کی بیعت میں مالکی علماء پیش پیش تھے البتہ ان میں سے بعض خاندانی سازشوں کی وجہ سے معیوب سمجھے جاتے تھے چنانچہ ثابت ہوا کہ جب اہل ولایت پر دنیا داری کا غلبہ ہوجائے تو پھر اموی ملوکیت رجوع کرتی ہے

發表迴響

在下方填入你的資料或按右方圖示以社群網站登入:

WordPress.com 標誌

您的留言將使用 WordPress.com 帳號。 登出 /  變更 )

Twitter picture

您的留言將使用 Twitter 帳號。 登出 /  變更 )

Facebook照片

您的留言將使用 Facebook 帳號。 登出 /  變更 )

連結到 %s