Branches of Alawi Ishmaelites in different parts of the world

شہنشاہ وفا قمر بنی ہاشم سیدنا غازی ابو الفضل العباس عملدار ع بن امیر المومنین و امام المتقین سیدنا امام علی المرتضی ع کی دنیا میں پائے جانے والی اولاد کا مختصر تذکرہ

حضرت عباس ابن علی (ع) کی اولادکے بارے میں میں تمام علماء اور ماہرانساب کا اتفاق ہے کہ آپ کے دو بیٹے تھے ۔ حضرت فضل (ع) اور حضرت عبیدہ اللہ (ع) اس پر بھی اکثر علماء اور ماہر انساب کا اتفاق ہے کہ آپ کی نسلِ مبارک حضرت عبیدہ اللہ (ع) سے ہی چلی البتہ ابن شہر آشوب نے آپ کے دو فرزند بنام محمد (ع) اور عبد اللہ (ع) کا ذکر کیا ہے۔ جو کربلا میں شہید ہو گئے ۔ بعض نے حضرت فضل (ع) کی اولاد کا ذکر کیا ہے۔ تاریخ میں اولاد حضرت علی (ع) کے ساتھ اموی اور عباسی حکمرانوں کے روح فرسا مظالم کی بناء پر کچھ تو اُن کے بے رحم خنجر سے کربلا ، دمشق اور بغداد میں ذبح ہو گئے۔ اور کچھ دور دراز علاقوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ حضرت عیسیٰ بن زید (ع) اور حضرت حمزہ بن قاسم العلوی(ع) پر ہونے والے ظلم بھری داستانیں اور اِس جیسی ہزاروں داستانیں شاہد ہیں ، کہ دین کی بقاء اور سربلندی کے لیے اولاد حضرت علی (ع) نے کیا کیا قربانیاں دیں ، اور کس کس طرح اپنے القب اور نسب کو ظاہر نہ کیا۔ جس کی بناء پر آج اولاد حضرت علی (ع) مختلف نام سے پہچانی جاتی ہے ، اِسی بناء پر حضرت عباس ابن علی (ع) کی اولاد مصر میں سادت بنی ہارون ، اردن میں سادات بنو شہید ، یمن میں سادات بنو بنی مطاع ، عراق میں سادات علوی ابو الفضلی ، ایران میں سادات علوی ابو الفضلی اور پاکستان میں سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی کے عنوان سے پہچانی جاتی ہے۔

پاکستان میں حضرت عباس ابن علی (ع) کی اولاد سید عون قطب شاہ العلوی (رض) سے چلی۔

پاکستان میں حضرت عباس ابن علی (ع) کی اولاد سید عون قطب شاہ العلوی (رض) کی نسبت سے اعوان قطب شاہی اور سیدنا حضرت امام علی (ع) کی نسبت سے سادات علوی کے لقب سے مشہور و معروف ہے ۔

سید عون قطب شاہ علوی (رض) کا شجرہ نسب دس واسطوں سے حضرت عباس ابن علی (ع) تک پہنچتا ہے ۔ سید عون قطب شاہ علوی (رض) کا شجرہ نسب مندرجہ ذیل ہے۔

السید عون قطب شاہ العلوی بن السید یعلی العلوی بن السید ابو یعلی الحمزہ (الثانی) العلوی بن السید القاسم العلوی بن السید علی العلوی بن السید الحمزہ العلوی (الاول) بن السید الحسن العلوی بن السید عبیداللہ العلوی رئیس المدنی بن السید ابو الفضل العباس علمدار العلوی علیہ السلام ( شہنشاہ وفا ، شہید کربلا ، قمر بنی ہاشم ، سقائے سکینہؑ) بن امیر المومنین ، امام المتقین ، وصی رسول خدا صلی الله علیہ وآله وسلم سیدنا امام علی المرتضی علیہ السلام بن سید البطخا مومن القریش سیدنا ابو طالب (عمران) علیہ السلام

سید عون قطب شاہ علوی کا شجرہ نسب کچھ کتب میں اس طرح بھی لکھا گیا ھے ، السید عون قطب شاہ العلوی بن السید یعلی العلوی بن السید ابو یعلی الحمزہ العلوی ( الثانی ) بن السید الطیار العلوی بن السید قاسم العلوی بن السید علی العلوی بن السید الجعفر العلوی بن السید الحمزہ العلوی ( الاول ) بن السید الحسن العلوی بن السید عبید اللہ العلوی رٸیس المدنی بن سیدنا ابو الفضل العباس علمدار علیہ السلام بن سیدنا امام علی المرتضی علیہ السلام سید البطخا مومن القریش سیدنا ابو طالب (عمران) علیہ السلام

سید عون قطب شاہ علوی 419 ھجری بغداد میں پیدا ھوٸے ، سید عون قطب شاہ علوی پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں اسلام کی تبلیغ کی غرض سے اپنے دو بیٹوں سید عبد اللہ شاہ علوی المعروف عبداللہ گولڑہ اورسید محمد شاہ علوی المعروف محمد شاہ کندلان کے ہمراہ عراق کے شہر بغداد سے ہجرت کر کے برصغیر پاک و ہند کے شہر وادی سون سکیسیر جو آج کل پاکستان کا حصہ ھے ، وہاں آئے ، سید عون قطب شاہ علوی کی زوجہ محترمہ اور سید عبد اللہ شاہ گولڑہ اور سید محمد شاہ کندلان کی والدہ ماجدہ کا نسبی تعلق سادات فاطمی الحسینی العریضی خاندان سے تھا ، سادات فاطمی الحسینی العریضی قبیلے کا نسب چھٹے امام جعفر صادق علیہ بن امام باقر علیہ السلام سے ھوتا ھوا چوتھے امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام بن امام علی المرتضی علیہ السلام بن سیدنا ابو طالب (عمران) علیہ السلام تک جاتا ہے ، سید عون قطب شاہ علوی کی زوجہ محترمہ اور سید عبد اللہ شاہ علوی گولڑہ اور سید محمد شاہ علوی کندلان کی والدہ محترمہ کا نام مبارک بعض اہل انساب نے سیدہ فاطمہ کبریٰ بن سید عبد اللہ صومعی درج کیا ہے ، کچھ نے سیدہ عاٸشہ ملقب فاطمہ کبریٰ بن سید عبداللہ صومعی لکھا ھے ، سید عبد اللہ صومعی کی دو بیٹیاں سیدہ فاطمہ کبری ملقب عائشہ اور سیدہ فاطمہ الصغری تھیں ، سید عون قطب شاہ علوی کی زوجہ سیدہ فاطمہ کبری ملقب عائشہ کا شجرہ نسب شجرہ مبارکہ اس طرح سے ہے ، السیدہ فاطمہ کبری ملقب عائشہ بن السید عبد اللہ صومعی بن السید ابی الجمال المحمد الحسینی بن السید ابی محمد الطاہر الحسینی بن ابی عطا عبد اللہ بن السید ابی الکمال عیسی الحسینی العریضی بن السید علاٶ الدین علی الریضی الحسینی بن سیدنا امام جعفر الصادق علیہ السلام بن سیدنا امام محمد الباقر علیہ السلام بن سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام بن سیدنا امام حسین علیہ السلام شہید کربلا بن امیر المومنین وامام المتقین امام علی المرتضی علیہ السلام بن سید البطخا مومن القریش سیدنا ابو طالب (عمران) علیہ السلام

سید عون قطب شاہ علوی عرصہ دراز تک وادی سون سیکیسر میں مقیم رھے ، اور مذہب حقہ کی تبلیغ کرتے رھے ، آپ نے بہت سے ہندو راچپوت قباٸل کو اپنی تبلیغ سے اسلام میں داخل کیا ، پھر بہت سے آثار اور اوُلاد کو چھوڑ کر واپس بغداد تشریف لے گئے ، آپ نے 3 رمضان 556 ھجری کو دنیا سے پردہ فرمایا ، اور اپنےخالق حقیقی سے جا ملے ، آپ مقبرۃ القریش کاظمین بغداد میں مدفون ہیں ، سید عون قطب شاہ علوی البغدادی کے صرف دو ہی فرزند سید عبداللہ شاہ علوی اور سید محمد شاہ علوی تھے ، اور یہی دو فرزند ان کے روحانی اور باطنی جانشنین تھے ، سید عون قطب شاہ علوی کے بڑے بیٹے سید عبد اللہ شاہ علوی تھے ، جن کی تاریخ پیداٸش 471 ھجری ہے ، اور عبد اللہ گولڑہ کے نام سے مشہور تھے ، اِس کے علاوہ بعض شجرہ جات کے قلمی نسخوں میں اِن کا نام گوہر شاہ بھی لکھا گیا ہے ، آپ نے ہندو کھوکھر راچپوتوں اور ہندو چوہان راچپوتوں کے خلاف بھرپور جہاد کیا ، سید عبد اللہ شاہ علوی گولڑہ کو 600 ھجری میں اسلام دشمنی میں متعصب ہندو کھوکھر راچپوت قبیلے نے حملہ کر کے شہید کر دیا ، آپ کا جنازہ چورہ دادا گولڑہ وادی سون میں لایا گیا اور امانتا دفن کیا گیا ، بعد میں آپ کے جسد مبارک کو مقام چورہ دادا گولڑہ سے نکال کر مقبرة القریش کاظمین بغداد میں اپنے والد محترم سید عون قطب شاہ علوی کی تربت اقدس کے ساتھ دفن کیا گیا ، وادی سون سیکیسر میں آج بھی چورہ دادا گولڑہ قاٸم ہے ، برصیغر پاک و ہند پاکستان میں موجود سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی کے قبیلے میں آج بھی یہ رسم ھے ، جب بھی علوی اعوان جاٸے مدفن چورہ دادا گولڑہ پر جاتا ہے ، وہاں ایک پتھر رکھ دیتا ہے ، وہاں ان کی یاد میں ایک عالی شان مسجد بھی قاٸم ہے ، سید عون قطب شاہ العلوی کے دوسرے بیٹے سید محمد شاہ علوی تھے ، جن کی تاریخ پیداٸش 475 ھجری ہے ، جو محمد شاہ کندلان کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ سید عبد اللہ شاہ علوی گولڑہ سے چھوٹے تھے ، آپ نے بھی اپنے بڑے بھاٸی سید عبد اللہ شاہ علوی گولڑہ کی طرح ہندو کھوکھر راچپوتوں اور ہندو چوہان راچپوتوں کے خلاف بھر پور جہاد کیا ، اور اسلام کی تبلیغ میں بھرپور کردار ادا کیا ، آپ نے 616 ھجری میں دنیا سے پردہ فرمایا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ، سید محمد شاہ علوی کندلان کو بھی اپنے بھائی اور والد کے ساتھ واپس بغداد میں دفن کیا گیا ، سید عبداللہ شاہ علوی گولڑہ کی اولاد وادی سون سیکیسر کالا باغ نوشہرہ کٹھہ پہاڑی سے لے کر گھیبکی اوگالی سرگودھا خوشاب کے اضلاع میں کثرت سے موجود ہے ، سید محمد شاہ علوی کندلان کی اولاد وادی سون پیل پڈھڑاڑ خوشاب سے لے کر ت اٹک چکوال علاقہ ونہار میں کثرت سے موجود ہے ، سید عبد اللہ شاہ علوی گولڑہ اور سید محمد شاہ علوی کندلان کی کچھ اولاد اپنے آبائی علاقوں سے نکل کر اسلام آباد راولپنڈی کے قریبی موضعات میں بھی آباد ھوئی ، ضلع اسلام آباد میں علاقہ گولڑہ بھی سید عبد اللہ شاہ علوی گولڑہ کے اولاد نے آباد کیا ، سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی قبیلے کا شمار برصغیر کے ایک مشہور و معروف بہادر جنگجو قبیلے میں ھوتا ھے ، جس کی راویات میں ابھی تک عرب قبائل کا کلچر موجود ہے ، قدیم زمانے سے خاندان کا بزرگ اپنے قبیلے کی شاخ کا سربراہ ھوتا ھے ، جسے ،، ملک ،، کے اعزازی لقب نوازا جاتا ھے ، اور بعض اوقات یہ اعزازی القاب اس شاخ کے ساتھ نسل در نسل جاری رہتے ہیں ، جو اپنے قبیلے کے معاملات اور جرگے کے فیصلے طے کرواتا ہے ، یہ تمام قبیلہ سیدنا مولا امام علی المرتضی علیہ السلام کی اولاد ھونے کی نسبت سے سادات علوی اور سید عون قطب شاہ علوی کی اولاد ہونے کی نسبت سے اعوان قطب شاہی کہلاتا ہے ، اسی لیے سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی کے نام سے مشہور ہے

تحریر و تحقیق ✍👈 ملک ممتاز علوی سید (بانی 👈 سادات علوی اعوان کونسل پاکستان)
(طالب علم رہنماء 👈مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان)
(ایڈمن فیس بک پیچ✍ 👈 سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی)
( ایڈمن ✍👈 سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی واٹس اپ گروپ)
📱👉+92 333 515 1920
📧👉sadaat.e.alvi@gmail.com

發表迴響

在下方填入你的資料或按右方圖示以社群網站登入:

WordPress.com 標誌

您的留言將使用 WordPress.com 帳號。 登出 /  變更 )

Twitter picture

您的留言將使用 Twitter 帳號。 登出 /  變更 )

Facebook照片

您的留言將使用 Facebook 帳號。 登出 /  變更 )

連結到 %s