Intra-Fatimi debate about status quo and change

میرے لئے کاکاخیل حسینی سادات اور ندوی سادات دونوں قابل محبت ہیں اور ہم جیسے اھل ابتر آپ کے خادم ہیں عدنان صاحب پر حب حسن اور حب عثمان کا غلبہ ہے جو انقلاب کی پائداری کیلئے ضروری ہے جبکہ حسینیت انقلاب کی تیاری کے لئے ضروری ہے البتہ کاکا خیل سادات کے اجداد زیدی فکر کے حامل تھے جو عقیدہ میں حسنی مزاج اور منہج میں حسینی مزاج کے حامل تھے ہمیں اس یمنی اعتدال کو بحال کرنے کی ضرورت ہے پیر نفیس الحسینی نے اس ضمن میں کچھ تحقیقی کام کیا جس سے میں مستفید ہوا

کاکاخیل صاحب کی مشرف کے خلاف تقریر حسینی مزاج کے زیادہ قریب تھی

發表迴響

在下方填入你的資料或按右方圖示以社群網站登入:

WordPress.com 標誌

您的留言將使用 WordPress.com 帳號。 登出 /  變更 )

Twitter picture

您的留言將使用 Twitter 帳號。 登出 /  變更 )

Facebook照片

您的留言將使用 Facebook 帳號。 登出 /  變更 )

連結到 %s