The psychological persecution of orthodox Muslims

 If they do not participate in society and politics, they are called psychotic. If they do they are called fascist.

#فردوس_جمال
الہی! تیرے یہ مولوی بندے کدھر جائیں ؟

مولوی وہ ملامتی فرقہ بن چکا ہے.جو کچھ اچها بهی کرے تو اس اچهائی کی جڑوں میں بهی کوئی بدی تلاش کی جاتی ہے،مولوی دنیا کا سب سے بڑا مظلوم طبقہ ہے،مولوی شادی کرے تو بیوی کے زیر عقاب، نہ کرے تو معاشرے کے زیر عتاب(کہ شاید حلالوں پہ گزارہ کررہا ہو )چندے سے چولہا جلائے تو قلاش، تجارت سے پیٹ کی آگ بجھائے تو عیاش،دنیا جہاں کی سب پابندیاں مولوی کے لیے بنائی گئی ہیں.

ارے ! تم نے آج شام مولوی کو چوڑیوں کی دکان کے سامنے سے گزرتے نہیں دیکها ؟! لگتا ہے بیگم کے لیے چوڑیاں خریدنے آیا ہے، بہت رنگین مزاج ہے اپنے محلے کا مولوی بهی

مولوی نے آج اپنے پوتے کے لیے کھلونا خریدا ، مولوی ہوکر کهلونے خریدتا ہے ؟!

مولوی آج صبح مسجد سے متصل پارک میں چہل قدمی کر رہا تها." ورزش کر رہا ہوں گا بهائی " مولوی اور ورزش ؟! نہیں نہیں کچھ اور چکر ہے ! وہ کچھ گنگنا بهی رہا تها ."تو قرآن پڑھ رہا تها" پتہ نہیں مجهے تو لگتا ہے عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کی کوئی گیت …! دیکهو تو مولوی کو. اللہ معاف کرے .اور تو اور ایک گلاب کے پهول کو بهی چهیڑ رہا تها.نہیں معلوم کس نیت سے ؟! مولوی اور گلاب !

مولوی کل بنک میں گیا تها.لگتا ہے بنک اکاؤنٹ بهی ہے مولوی کا !

مولوی نے گهر میں بلی پال رکهی ؟ مولوی کا بچہ مدرسہ میں پڑے تو طنز مولوی کا بیٹا مولوی ہی ہوگا،کسی انگلش سکول میں پڑھائے تو اعتراض کہ مولوی اپنے بچے کو انگریز بنا رہا ہے.!

یہ مولوی صاحب ولیمہ کی اس تقریب میں کیا کررہا ہے ؟ بهئ نکاح پڑهانے آیا ہوگا."ارے ! نکاح تو اس جوڑے کا پہلے ہی ہوا ہے". تو پهر ضرور حلوے اور بریانی کی خوشبو انہیں یہاں کهینچ لائی ہوگی.مگر وہ تو اس جوڑے کا رشتہ دار بهی تو ہے."رشتہ دار ہے ؟ اف خدایا، اب سب کے سامنے جوڑے کی انسلٹ ہوگی کہ وہ ایک مولوی کے رشتہ دار ہیں.

حکومت کے حق میں بولے تو درباری مولوی ، خلاف بولے تو فسادی مولوی .

مولوی سائیکل پر چلے تو طنز کہ مولوی کی شاہانہ سواری مولوی لیموزین پہ چڑھے تو تنقید کہ مولوی کو آخرت کی فکر ہی نہیں ہے.

مولوی سیاست میں آئے تو اعتراض کہ ان کا کام مسجد و مکتب میں ہے اسمبلی میں نہیں.سیاست میں حصہ نہ لے تو اعتراض مولوی نے اسلام کو مسجد میں قید کرلیا ہے،ملا کی دوڑ مسجد تک.

پاکستان کی تاریخ میں آج تک کوئی مولوی ملک کا صدر یا وزیراعظم نہیں بنا بلکہ کسی بہت بڑے ادارے کا سربراہ بهی نہیں بنا ،ملک کے سب فیصلے مونچھوں والوں نے کیے ، ملک کو دو لخت بهی ٹائی اور کوٹ والوں نے ہی کیا مگر الزام پگڑی پہ کہ مولوی نےملک کو تباہ کردیا !! بقلم فردوس جمال
—————
الہی! تیرے یہ مولوی بندے کدهر جائیں

(تحریر پرانی ہے مگر حسب حال ہے)

發表迴響

在下方填入你的資料或按右方圖示以社群網站登入:

WordPress.com 標誌

您的留言將使用 WordPress.com 帳號。 登出 /  變更 )

Twitter picture

您的留言將使用 Twitter 帳號。 登出 /  變更 )

Facebook照片

您的留言將使用 Facebook 帳號。 登出 /  變更 )

連結到 %s