A journey to communicate science and religion

Action-first Aporiastic seekers of truth vs Inquiry-first Zetetic seekers of truth

راسخ مؤمن کی دو بنیادی صورتیں بیان کی جا سکتی ہیں جو بظاہر ایک ہی روحانی سنجیدگی رکھتی ہیں مگر اپنے علمی رویّے میں مختلف ہیں۔ دونوں اقسام میں ایمان کی پختگی موجود ہوتی ہے، فرق اس بات میں ہے کہ وہ لاعلمی، سوال اور فہم کی حد کو کس طرح جیتے ہیں۔

پہلی قسم وہ راسخ مؤمن ہے جو اپوریاتی نوعیت رکھتا ہے۔ یہ مؤمن اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے کہ بعض سوالات کا مکمل اور حتمی جواب انسانی عقل کی دسترس میں نہیں۔ خدا، تقدیر، خیر و شر اور معنی جیسے مسائل میں وہ ایک فکری رکاوٹ یا ٹھہراؤ کو پہچان لیتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ رکاوٹ عارضی نہیں بلکہ انسانی محدودیت کی مستقل علامت ہے۔ اس لیے وہ یہ کوشش نہیں کرتا کہ ہر سوال کو حل کر کے ہی ایمان پر قائم رہے۔ اس کا ایمان صبر، برداشت اور تسلیم پر قائم ہوتا ہے۔ وہ عبادت، دعا اور اخلاقی التزام کو اس لیے نہیں چھوڑتا کہ اسے ہر چیز کی عقلی توجیہ حاصل نہیں، بلکہ اس لیے کہ عمل اس کے لیے یقین کو سہارا دیتا ہے۔ اس مؤمن کی زندگی میں خاموش استقامت نمایاں ہوتی ہے، اور وہ سوالات کے بوجھ کو عمل کی روشنی میں سنبھالتا ہے۔

دوسری قسم وہ راسخ مؤمن ہے جسے زیٹیٹک یا جستجو کرنے والا کہا جا سکتا ہے۔ یہ مؤمن بھی ایمان میں سنجیدہ ہوتا ہے، مگر اس کی سنجیدگی سوال کو روکنے میں نہیں بلکہ سوال کو زندہ رکھنے میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے لیے لاعلمی کوئی ٹھہراؤ نہیں بلکہ دعوتِ تحقیق ہوتی ہے۔ وہ یہ مانتا ہے کہ فہم نامکمل ہے، مگر اس نامکمل فہم کو بہتر بنانے کی کوشش کو عبادت کا حصہ سمجھتا ہے۔ مطالعہ، غور و فکر، مکالمہ اور تنقیدی سوچ اس کے ایمان کا لازمی جز ہوتے ہیں۔ اس مؤمن کا دل اللہ سے وابستہ رہتا ہے، مگر اس کی عقل مسلسل حرکت میں رہتی ہے۔

اپوریاتی راسخ مؤمن اور زیٹیٹک راسخ مؤمن کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ پہلا ایمان کو حد کے اندر جیتا ہے، جبکہ دوسرا ایمان کو سفر کے طور پر جیتا ہے۔ پہلا یہ کہتا ہے کہ میں اپنی عقل کی حد کو مان کر بھی وفادار رہ سکتا ہوں، جبکہ دوسرا یہ کہتا ہے کہ میں اپنی عقل کو وسعت دیے بغیر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ ایک کے ہاں عمل سوال کو تھام لیتا ہے، دوسرے کے ہاں سوال عمل کو گہرا کرتا ہے۔

جذباتی سطح پر بھی دونوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ اپوریاتی راسخ مؤمن میں سکون، ضبط اور ٹھہراؤ زیادہ ہوتا ہے۔ وہ بے یقینی کو برداشت کرنا سیکھ چکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زیٹیٹک راسخ مؤمن میں تجسس، بے چینی اور فکری توانائی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ نئی بصیرت پر خوش ہوتا ہے اور فکری رکاوٹ پر بے چین۔ اس کی روحانی زندگی میں اتار چڑھاؤ زیادہ ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ فکری تازگی بھی جڑی ہوتی ہے۔

سماجی تناظر میں اپوریاتی راسخ مؤمن خاموشی سے ایمان کو بچائے رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں مذہبی سوالات کو غیر ضروری یا غیر متعلق سمجھا جاتا ہے۔ وہ کم بولتا ہے مگر مستقل رہتا ہے۔ زیٹیٹک راسخ مؤمن زیادہ مکالماتی ہوتا ہے۔ وہ مختلف نظریات، مذاہب اور علمی روایتوں کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور پل کا کردار ادا کرتا ہے، اگرچہ اس عمل میں تھکن اور انتشار کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ان دونوں اقسام کا وجود اس بات کی علامت ہے کہ راسخ ایمان ایک ہی شکل میں ظاہر نہیں ہوتا۔ بعض انسان ایمان کو حدود کے اندر مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور بعض اسے مسلسل تلاش کے ذریعے زندہ رکھتے ہیں۔ دونوں اپنی جگہ سچے ہیں، اور دونوں اس دور میں ایمان کو ممکن بناتے ہیں جہاں یا تو مکمل یقین کا مطالبہ کیا جاتا ہے یا مکمل بے اعتنائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

Leave a comment