Aporiastic believer who constants updates himself epistemologically
راسخ مؤمن اُس شخص کو کہا جا سکتا ہے جو ایمان پر عمل بھی کرتا ہے اور اپنی علمی و عقلی حدود سے بھی پوری طرح آگاہ ہوتا ہے۔ وہ نہ تو اندھا یقین رکھنے والا ہوتا ہے اور نہ ہی سوالات اور شبہات کی وجہ سے ایمان یا عمل ترک کر دیتا ہے۔ اس کے نزدیک ایمان کوئی مکمل طور پر حل ہو جانے والا نظری مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا زندہ راستہ ہے جس میں یقین، سوال اور عمل ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔
راسخ مؤمن یہ حقیقت تسلیم کرتا ہے کہ انسانی عقل محدود ہے۔ خدا، کائنات، تقدیر اور معنی جیسے بڑے سوالات ایسے ہیں جن کے تمام پہلوؤں کو ایک ہی ذہن میں مکمل طور پر سمویا نہیں جا سکتا۔ وہ اس علمی کمی کو ایمان کی نفی نہیں سمجھتا بلکہ انسانی فطرت کی ایک لازمی حد مانتا ہے۔
راسخ مؤمن کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ یقین کی مکمل وضاحت نہ ہونے کے باوجود عبادت اور اخلاقی ذمہ داریوں پر قائم رہتا ہے۔ نماز، دعا، ذکر اور نیک اعمال اس کے لیے محض رسم نہیں بلکہ وہ عملی ستون ہیں جو دل اور عقل کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ بعض سچائیاں محض غور و فکر سے نہیں بلکہ مسلسل عمل کے ذریعے دل میں راسخ ہوتی ہیں۔
یہ مؤمن تضاد اور ابہام سے گھبراتا نہیں۔ وہ اس بات کو سمجھتا ہے کہ یقین کا غیر فطری مطالبہ اکثر انسان کو یا تو سخت گیر بنا دیتا ہے یا پھر بے حسی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، راسخ مؤمن اس کشمکش کو برداشت کرتا ہے جس میں عقل سوال اٹھاتی ہے اور دل اللہ کی طرف مائل رہتا ہے۔ اس کے نزدیک یہی توازن ایمان کو پختگی عطا کرتا ہے۔
سماجی طور پر راسخ مؤمن ایسے ماحول میں بھی ثابت قدم رہتا ہے جہاں بے اعتنائی اور لاتعلقی کو ذہانت اور ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ وہ نہ اپنے سوالات کو چھپاتا ہے اور نہ ہی اپنے ایمان کا دکھاوا کرتا ہے۔ اس کا ایمان خاموش، مستقل اور ذمہ دار ہوتا ہے، جو عمل اور اخلاق میں ظاہر ہوتا ہے نہ کہ دعووں میں۔
راسخ مؤمن ایمان کو کسی بند نظام یا مکمل نظریاتی پیکج کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سوالات ختم ہو جائیں، بلکہ یہ ہے کہ سوالات کے ساتھ بھی اللہ سے تعلق اور سمت برقرار رہے۔
بالآخر، راسخ مؤمن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایمان کی اصل طاقت مکمل ذہنی تسلی میں نہیں بلکہ استقامت، اخلاص اور عمل کی پابندی میں ہوتی ہے۔ انسان اپنی علمی کمزوریوں کے ساتھ بھی مضبوط ایمان رکھ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ شک کو بے عملی کا جواز نہ بنائے اور عمل کو یقین کی آخری شرط نہ قرار دے۔
Leave a comment